Monday, 9 March 2015

کشمیری رہنما کی رہائی، بھارتی پارلیمنٹ میں ہنگامہ

بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے سخت گیر علیحدگی پسند رہنما مسرت عالم بٹ کو جیل سے رہا کرنے کے فیصلے پر بھارت کی پارلیمنٹ میں زبردست ہنگامہ ہوا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کا کہنا تھا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید نے مسرت عالم کی رہائی کے بارے میں اُن کی حکومت سے کوئی صلاح و مشورہ نہیں کیا تھا جبکہ ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے قانون کی پاسداری کرتے ہوئے انھیں رہا کیا۔
اس ہنگامہ آرائی کے درمیان پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کشمیری رہنما سید علی شاہ گیلانی سے ملاقات کی ہے۔ گذشتہ بار جب انھوں نے کمشیری علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات کی تھی تو بھارت نے پاکستان سے بات چیت کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔
پارلیمنٹ کا اجلاس جیسے ہی شروع ہوا، حزب اختلاف کے ارکان نے مسرت عالم کی رہائی پر حکومت سے بیان دینے کا مطالبہ کیا۔ کانگریس کے سینئیر رہنما ملیکا ارجن نے لوک سبھا میں یہ سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’ایک ایسا شخص جو 120 نوجوانوں کے قتل کا سبب بنا ہو اور جس کے خلاف جرائم کے سنگین الزامات ہوں اسے کس طرح رہا کیا جا سکتا مودی نے ایوان کو یقین دلایا کہ حکومت قومی سلامتی کے معاملات سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت مسرت عالم کی رہائی کے بارے میں حزب اختلاف کے جزبات سے متفق ہے ۔ تاہم انھوں نے کہا کہ ’کشمیر کی حکومت نے اس سلسلے میں ان کی حکومت سے کوئی صلاح و مشورہ نہیں کیا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی اطلاع دی۔‘
مسرت عالم بٹ کو گذشتہ ہفتے جیل سے رہا کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سنہ 2010 میں سنگباری کی تحریک کے پیچھے انھی کا ہاتھ تھا۔ اس تحریک کے دوران پولیس کی فائرنگ میں سو سے زیادہ نو عمر بچے اور نوجوان ہلاک ہوئے تھے۔ مسرت بٹ کو سخت گیر رہنما سید علی شاہ گیلانی سے قریب اور ان کا سیاسی جانشیں سمجھا جاتا ہے۔
اس دوران پاکستان کے ہائی کمشنر عبدالباسط نے کشمیری علیحدگی پسند رہنما سید علی شاہ گیلانی سے ملاقات کی ہے۔ سید علی گیلانی ان دنوں دلی میں ہیں۔
اس سے قبل پاکستانی ہائی کمشنر باسط نے گذشتہ سال اگست میں جب علیحدگی پسندوں سے بات چیت شروع کی تھی تو بھارت کی نئی حکومت نے خارجہ سیکریٹری کی سطح کے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی منقطع کر دیے تھے۔ پانچ مہینے کے وقفے کے بعد بات چیت حال ہی میں دوبارہ شروع ہوئی ہے۔
کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت قائم ہوئے ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا ہے۔ مسرت عالم بٹ کی رہائی مودی حکومت کے لیے سبکی کا سبب ہی نہیں بنی ہے اس سے دونوں جماعتوں کے درمیان تعلقات بھی کافی کشیدہ ہو گئے ہیں۔
اطلاعات ہیں کہ وزیر اعلی مفتی محمد سعید جیل میں قید بعض دیگر علیحدگی پسند رہنماؤں کی رہائی پر غور رہے ہیں جنہیں وہ سیاسی قیدی تصور کرتے ہیں اور جن کی رہائی کا انھوں نے اپنے انتخابی منشور میں وعدہ کیا تھا۔

شمسی توانائی سے اُڑنے والا ’سولر امپلس 2‘ دنیا کے سفر پر روانہ

شمسی توانائی سے چلنے والا ایک ہوائی جہاز پیر کو دنیا کے گرد چکر لگانے کے مشن پر روانہ ہو گیا ہے۔
’سولر امپلس 2 ‘ نامی یہ جہاز اگر اس کوشش میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ایک نیا ریکارڈ ہو گا۔
پیر کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق رات 2:30 پر یہ جہاز ابوظہبی سے روانہ ہوا اور پہلے مرحلے میں عمان سے ہوتا ہوا بھارت پہنچے گا۔
اگلے پانچ ماہ کے دوران یہ مختلف براعظموں سے گزرتا ہوا دنیا کے گرد چکر لگانے کی کوشش کرے گا۔
ایک نشست والے اس جہاز کو سوئٹزرلینڈ کے دو پائلٹ آندرے بوریش برگ اور برتروں پیکارڈ وقفے وقفے سے اڑائیں گے اور یہ پرواز کے دوران جہاز کو مختلف شہروں میں روکیں گے تاکہ جہاز کو درکار مرمتی کام کیا جا سکے۔ اسی دوران ماحول دوست ٹیکنالوجی کی تشہیر بھی کی جائے گی۔
سولر امپلس کے سی ای او نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ ایک خاص جہاز ہے اور ہمیں بڑے سمندروں کے اوپر سے گزرنا ہے۔ ہو سکتا ہے ہمیں اس کی پرواز کو مسلسل پانچ دن اور پانچ راتوں تک جاری رکھنا پڑے اور یہ ایک بڑا چیلنج ہو گا اور ہمارے پاس اسے چین کے اوپر سے گزارنے میں اگلے دو ماہ ہوں گے اور اس کے لیے ہمیں تیاری کرنا ہو گی۔‘
شمسی توانائی سے چلنے والے جہاز کے منصوبے نے پہلے ہی متعدد ریکارڈ بنا رکھے ہیں، جس میں 2013 میں امریکہ کو عبور کرنا شامل تھا تاہم دنیا کے گرد چکر لگانا ایک بالکل مختلف مہم ہے۔
اس مقصد کے لیے ’سولر امپلس ون‘ کے مقابلے میں ایک بڑا جہاز ’سولر امپلس ٹو‘ تیار کیا گیا ہے۔
اس نئے شمسی جہاز کے پروں کی لمبائی 72 میٹر ہے جو جمبو جیٹ کے پروں سے بھی بڑے ہیں، لیکن اس جہاز کا وزن صرف 2.3 ٹن ہے۔ اس کا کم وزن مشن کی کامیابی کے لحاظ سے اہم ہو گا۔
شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے اس کے پروں پر 17 ہزار سولر سیلز نصب ہیں اور توانائی کو جمع کرنے کے لیے لیتھیئم بیٹریاں بھی نصب ہوں گی جس کی مدد سے جہاز رات کو بھی پرواز کر سکے گا۔
بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کو عبور کرنے کے لیے رات کے وقت پرواز انتہائی اہم ہو گی کیونکہ اس کی اوسط رفتار 72 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔
جہاز میں پائلٹ کے کاک پٹ کا سائز بھی بہت کم ہے۔ صرف 3.8 مکعب میٹر کاک پٹ کی وجہ سے پائلٹ کو جسمانی مشکلات کا سامنا بھی ہو گا۔
پرواز کے دوران پائلٹ کو وقفوں سے صرف 20 منٹ سونے کی اجازت ہو گی۔

سعودی عرب کی جانب سے اسلحے کی مانگ میں ڈرامائی اضافہ

ئی ایچ ایس کے مطابق اسلحے کی تجارت میں اس ریکارڈ اضافے کی وجہ دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی جانب سے فوجی طیاروں کی مانگ میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ اور ایشیائی بحرالکاہل کے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔
 2013 کی طرح سنہ 2014 میں بھی اسلحے کی فروخت میں امریکہ پہلے نمبر پر رہا جبکہ اس کے بعد روس، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کا نمبر رہا۔آئی ایچ ایس کی اسلحے کی عالمی تجارت کی سالانہ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے سعودی عرب کی جانب سے اسلحے کی مانگ میں ڈرامائی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ کمپنی کے ماہر تـجزیہ کار بین مورز کا کہنا ہے کہ ’اگر سعودی عرب کے ماضی کے اسلحے کے سودوں کو مد نظر رکھیں تو لگتا نہیں کہ آئندہ سالوں میں بھی اس میں کوئی کمی آنے جا رہی ہے۔‘رپورٹ میں اگرچہ یہ نہیں بتایا گیا کہ سنہ 2014 میں کتنا اسلحہ فروخت ہوا تاہم رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 اور 2014 کے درمیان سعودی عرب کی اسلحے کی مانگ میں 54 فیصد اضافہ ہوا اور سعودی عرب کے آئندہ خریداری کے آرڈرز کو دیکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ سنہ 2015 میں ان سودوں کی لاگت 9.8 ارب ڈالر ہو جائے گی جو کہ اسلحے کی عالمی خریداری کا 52 فیصد ہو گا۔ یوں سنہ 2015 میں عالمی منڈی میں اسلحے پر خرچ ہونے والے ہر سات ڈالرز میں سے ایک ڈالر سعودی عرب خرچ کر رہا ہوگا۔

Sunday, 8 March 2015

ڈومزڈے والٹ میں پہلی بار جنگلی درختوں کے بیج

پوری دنیا میں پائے جانے والی غذائی اشیا کے بیجوں کو سنبھال کر رکھنے والے ’بیجوں کے بینک‘ یا والٹ نے پہلی بار جنگل کے درختوں کے بیجوں کو قبول کیا ہے۔
ناورے کے جزیرے سپٹسبرگن پر واقع بیجوں کو اس بینک کو ’ڈومس ڈے والٹ‘ یعنی قیامت کے دن کام آنے والا خزانہ کہا جاتا ہے۔
ناورے میں ’آرکٹک آرکیپیلیگو‘ کے پہاڑوں پر واقع اس والٹ میں ناورے میں ہی پائے جانے والے سپورس اور سکوٹس نامی پائن یا چیڑ کے درختوں کے بیجوں کو محفوظ رکھا گیا ہے۔
اس فروزن یعنی برف سے جمی والٹ کو 2008 میں بنایا گیا تھا اور اس کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ہر انسانی اور قدرتی آفت سے محفوظ رہے گی۔
محققین کا خیال ہے اس والٹ میں اب جنگلی درختوں کے بیجوں کو رکھے جانے کے بعد جنگلوں میں پیش آنے والی جینیاتی تبدیلوں کی نگرانی کرنے میں مدد حاصل ہوگی۔
فن لینڈ کی قدرتی ذرائع کے بارے میں تحقیق کرنی والی ’نیچرل ریسورسز انسٹیٹیوٹ‘ میں ایک محقق ماری روسانن کا کہنا ہے ’جنگلی درختوں کے بیجوں کو اس والٹ میں سنبھال کر رکھنا ہمارے جنگلات میں ہونے والی جینیاتی تبدیلوں سے متعلق ریسرچ کرنے والوں کے لیے اچھی خبر ہے۔‘
روسانن نے بی بی سی کو بتایا کہ اس والٹ میں بیج سنبھال کر رکھنے سے ایک طرح سے ذہنی سکون ملا ہے کہ کیونکہ قدرتی آفت کی صورتحال میں یہ والٹ بہت کام آئی گی۔
ان درختوں کے بیجوں کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ یہ معاشی، سماجی اور ماحولیاتی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں
جن درختوں کے بیجوں کو اس والٹ میں محفوظ رکھا گیا ہے ان کے نمونے فن لینڈ اور ناورے سے لیے گئے تھے۔
ان درختوں کے بیجوں کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کیونکہ یہ معاشی، سماجی اور ماحولیاتی اعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔
بیجوں کی اس بینک کو چلانے والے ادارے گلوبل ’کراپ ڈائیورسٹی ٹرسٹ‘ یعنی جی سی ڈی ٹی کے برائن لینووف کا کہنا ہے جنگلی درختوں کے بیجوں کو اس والٹ میں رکھنے کے پیچھے متعدد وجوہات تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں درخت ایک دوسرے سے جینیاتی طور پر جدا ہوتے ہیں اور ان کے زندہ رہنے یا نہ رہنے میں ماحولیات ایک بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس والٹ میں دیگر ممالک کے درختوں کے بیجوں کو بھی محفوظ رکھنے کا کام کیا جائے گا۔ اس میں اب امریکہ کے محکمہ کاشت کاری سے سویا بین، دالوں اور گندم کی بعض اقسام کے بیج رکھے جائیں گے اس کے علاوہ افریقی ممالک سے دھان کے تقریبا 2500 اقسام کے بیج بھی اس میں شامل کیے جائیں گے۔
افریقہ میں چاولوں کی جینیات سے متعلق تحقیق کے شعبے ’رائس جینیٹک ریسورس یونٹ‘ کی سربراہ ماریا نوئیل جیوینجوب کا کہنا ہے ’امریکی غذائی تحفظ تمام عالمی چیلنجز کا سامنا کررہا ہے اس میں سیاسی غیر استحکام، ماحولیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافے سے متعلق مسائل اہم ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ہمیں ان فصلوں کی کھیتی کرتے رہنے ہوگا جو ہمیں غذائی بحران سے نمٹنے میں مدد کریں گی۔
اس والٹ میں چودہ طرح کے ٹماٹر کے بیجوں کو بھی شامل کیا جا رہا ہےجن میں سے پانچ نمونوں کو تعلق گالاپاگوس جزیرے سے ہے۔
ناورے کے دوردراز سالبارڈ جزیرے کے پہاڑوں کے بہت اندر واقع یہ والٹ 12 ماہ میں بن کر تیار ہوا تھا اور اسے بنانے میں پانچ ملین پاؤنڈ خرچ ہوئے۔ والٹ کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس میں پوری دنیا کے غزائی اشیاء کے نمونے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ والٹ غذائی سازو سامان کی ایک طرح کی انشیورنس ہے اور یہ پوری دنیا میں موجود غذائی اشیاء کے اربوں طرح کے بیجوں کو صدیوں تک محفوظ رکھے گا۔

امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ فتنہ تکفیر عالم اسلام کے خلاف بہت بڑی سازش ہے

فیصل آباد  امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ فتنہ تکفیر عالم اسلام کے خلاف بہت بڑی سازش ہے۔ باہمی لڑائی اور قتل و غارت گری سے صلیبیوں و یہودیوں کو اسلام و مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈا کا موقع مل رہا ہے۔ علماء کرام انبیاء کے وارث ہیں وہ قتل مسلم جیسے فتنوں سے نوجوان نسل کو بچائیں اور ملک میں اتحاد و یکجہتی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ فرقہ وارانہ تشدد سے بیرونی قوتوںکو مداخلت کے مواقع مل رہے ہیں۔ مغربی ممالک دنیا بھر میں اسلام کی پھیلتی ہوئی دعوت سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ وہ مرکز خیبر میں جماعۃالدعوۃ کے زیر اہتمام علماء کنونشن سے خطاب کر رہے تھے۔ کنونشن میں ضلع بھر سے سینکڑوں علماء کرام نے شرکت کی۔
حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہاکہ مغرب نے بہت عرصہ مسلمانوں پر حکومت کی اور مسلمانوں کے معاشروں کو بدل کر رکھ دیا ۔ بعد میں آزادیاں تو مل گئیں لیکن مسلمانوںکی حالت یکسر بدل چکی تھی۔ مسلم ملکوںکے نااہل حکمرانوں نے بھی بہت نقصان پہنچایا۔ انہوں نے کہاکہ روس کی طرح امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو بھی افغانستان میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مسلمانوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں دنیا کے حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو کامیابیوں سے نواز رہا ہے۔ وہ وقت قریب ہے جب کشمیر، فلسطین و دیگر خطوں کے مسلمان آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔ جماعۃالدعوۃ کے مرکزی رہنما حافظ عبدالسلام بن محمد نے کہا مسلمانوں کے آپس میں اتحادکی کوششیں کر کے ملک میں فساد پھیلانے کی بیرونی سازشیں ناکام بنانا ہوں گی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستانی فوج ملک کی سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے۔ اس کے خلا ف پروپیگنڈا درست نہیں۔ تحریک حرمت رسول ؐ کے سیکرٹری جنرل مولانا امیر حمزہ نے کہا فتنہ تکفیر کا شکار لوگ اسلام کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ مولانا سیف اللہ خالد نے کہاکہ موجودہ دور دعوت دین کیلئے بہت سازگار ہے۔ قاری یعقوب شیخ نے کہا ہے علماء کرام کو چاہئے کہ وہ منبر ومحراب کو میڈیا بنا کر کافروں کی سازشوں کی یلغار کا مقابلہ کریں۔ مفتی عبدالرحمن عابد، جماعت اسلامی فیصل آباد کے سیکرٹری جنرل محبوب الزماں بٹ، فیاض احمد، مولانا محمد اسحاق و دیگر نے کہاکہ کسی کلمہ گو پر کفر کا فتویٰ لگا کر اس کا قتل جائز نہیں ہے۔

فون اب کرسیوں، میزوں سے چارج کریں

فرنیچر بنانے والی سوئٹزر لینڈ کی مشہور کمپنی ’آئیکیا‘ نے فرنیچر کے نئے ڈیزائن متعارف کرائے ہیں جن میں موبائل فون وغیرہ چارج کرنے کی سہولت موجود ہے۔
فرنیچر کی اس ’ہوم سمارٹ رینج‘ میں ابتدائی طور پر لیمپ، بیڈسائڈ ٹیبل اور کافی ٹیبل جبکہ کسی بھی سطح پر رکھ کر استعمال کے لیے انفرادی چارجنگ پیڈ بھی شامل ہیں۔
آئیکیا نے اس مقصد کے لیے معیاری وائرلیس چارجنگ ’کیو آئی‘ کا استعمال کیا ہے جو کہ سیمسنگ کے نئے فون ’ایس 6‘ کے ساتھ بھی چلتا ہے۔
آئیکیا آئی فون اور سیمسنگ کے ان فون ماڈلز کے لیے بھی چارجنگ کوّرز فروخت کرے گی جو ’کیو آئی‘ سے ہم آہنگ نہیں۔
فی الحال 80 سے زائد ایسے فون ہیں جو ’کیو آئی‘ سے ہم آہنگ ہیں۔
موبائل فونز کے چارجر بنانے والے گروپ ’وائرلیس پاور کنسوشیم‘ کے مطابق مارکٹ میں ’کیو آئی‘ سے ہم آہنگ 15 گاڑیاں بھی موجود ہیں۔
آئیکیا نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کی وائرلیس چارجنگ مصنوعات اپنی مدت پوری ہونے پر آسانی سے تلف کی جا سکتی ہیں۔
آئیکیا کا کہنا ہے کہ ’گھر اور آفس کے فرنیچر میں وائرلیس چارجنگ کی شمولیت سے ہم نے انفرادی چارجرز کی ضرورت کو محدود کر دیا ہے‘۔
تاہم ماحولیات پر کام کرنے والے گروپ ’فرینڈز آف دی ارتھ‘ نے اس طرح کی مصنوعات کی ریسائکلنگ یا باز گردانی کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا ہے۔
آئیکیا کی یہ مصنوعات برطانیہ اور امریکہ میں اپریل 2015 سے فروخت کے لیے پیش کی جائیں گی۔

Saturday, 7 March 2015

بھارت میں دہلی گینگ ریپ کی فلم کیسے دیکھی جا رہی ہے؟

بھارت کی حکومت نے سنہ 2012 میں دارالحکومت دہلی میں ہونے والے ریپ پر بنائی گئی دستاویزی فلم پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ دستاویزی فلم بی بی سی نے بنائی ہے جسے برطانیہ میں نشر کیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ’انڈیاز ڈاٹر یا بھارت کی بیٹی‘ نامی اس فلم میں ریپ کرنے والے مجرم کے خواتین کے بارے میں نازیبا الزامات سے ملک بھر میں ایک بار پھر احتجاج شروع ہوسکتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے دستاویزی فلم پر پابندی عائد کرنے کے اقدام پر ملک کی پارلیمان سمیت دیگر حلقوں میں حکومت پر کڑی تنقید کی گئی۔ سوشل میڈیا میں اس پابندی کو ’حقیقت سے منہ پھیرنے‘ کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔
حکومت کے خیال میں دستاویزی فلم کی ریلیز پر پابندی لوگ اسے دیکھ نہیں پائیں گے لیکن اس کے برعکس ہندوستانیوں نے انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور متعدد طریقوں سے یہ فلم دیکھی اور سوشل میڈیا پر فلم کے بارے میں اپنی پختہ رائے سوشل میڈیا کے ذریعے پیش کی۔
اس واقعہ سے ایک بار یہ بحث شروع ہوئی ہے کہ انٹرنیٹ کے دور پر کسی بھی فلم یا کتاب یا فن پارہ پر پابندی عائد کرنا کتنا مشکل ہو گیا ہے۔
دارالحکومت دہلی کی ایک عدالت نے یہ حکم جاری کیا کہ کسی بھی ٹی وی چینل یا انٹرنیٹ کے ذریعے اس فلم کو بھارت میں نشر نہ کیا جائے۔
بیشتر بھارتی ٹی وی چینلز اور اخبارات نے عدالتی احکامات کی پاسداری کی اور یہاں تک کہ خواتین کے بارے میں ریپ کرنے والے مجرم کا بیان بھی نشر نہیں کیا۔

بھارت میں تو دستاویزی فلم نشر نہ ہو سکی لیکن بی بی سی نے یہ دستاویزی فلم برطانیہ میں نشر کی اور اُس وقت سے اب تک دنیا بھر میں ایسے شیئر کیا جا رہا ہے۔ یوٹیوب نے جمعرات کو جاری کیے گئے بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ فلم کے لنک کو ہٹا دیا گیا۔
اور اب جو کوئی یوٹیوب پر فلم دیکھنے کی کوشش کر رہا ہے اُسے یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ’عدالت کے حکم کی وجہ سے اس ملک کے ڈومین پر یہ فلم مہیا نہیں ہے‘۔
لیکن اس کے باوجود بھارتی عوام یوٹیوب پر یہ فلم دیکھ سکتے کیونکہ جیسے ہی یوٹیوب ایک لنک ہٹاتا کوئی اور کسی اور اکاؤنٹ سے دوسرا لنک اپ لوڈ کر دیتا ہے۔
عدالت کے حکم کے علاوہ فلم کو پروڈیوس کرنے والی کمپنی کا کہنا ہے وہ فلم سے متعلق غیر قانونی مواد کو ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
یوٹیوب پر ایک پیغام میں کہا گیا ’یہ ویڈیو بی بی سی کی ہے اور اس نے کاپی رائٹ کے حقوق کے تحت یہ ویڈیو بلاک کردی ہے۔‘
فلم یوٹیوب کے علاوہ متعدد دیگر ویب سائٹس پر اپ لوڈ کی گئی اور یہی وجہ ہے کہ حکام کے لیے پابندی برقرار رکھنا مزید مشکل ہوگیا ہے۔