Monday, 9 March 2015

شمسی توانائی سے اُڑنے والا ’سولر امپلس 2‘ دنیا کے سفر پر روانہ

شمسی توانائی سے چلنے والا ایک ہوائی جہاز پیر کو دنیا کے گرد چکر لگانے کے مشن پر روانہ ہو گیا ہے۔
’سولر امپلس 2 ‘ نامی یہ جہاز اگر اس کوشش میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ ایک نیا ریکارڈ ہو گا۔
پیر کو گرینچ کے معیاری وقت کے مطابق رات 2:30 پر یہ جہاز ابوظہبی سے روانہ ہوا اور پہلے مرحلے میں عمان سے ہوتا ہوا بھارت پہنچے گا۔
اگلے پانچ ماہ کے دوران یہ مختلف براعظموں سے گزرتا ہوا دنیا کے گرد چکر لگانے کی کوشش کرے گا۔
ایک نشست والے اس جہاز کو سوئٹزرلینڈ کے دو پائلٹ آندرے بوریش برگ اور برتروں پیکارڈ وقفے وقفے سے اڑائیں گے اور یہ پرواز کے دوران جہاز کو مختلف شہروں میں روکیں گے تاکہ جہاز کو درکار مرمتی کام کیا جا سکے۔ اسی دوران ماحول دوست ٹیکنالوجی کی تشہیر بھی کی جائے گی۔
سولر امپلس کے سی ای او نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’یہ ایک خاص جہاز ہے اور ہمیں بڑے سمندروں کے اوپر سے گزرنا ہے۔ ہو سکتا ہے ہمیں اس کی پرواز کو مسلسل پانچ دن اور پانچ راتوں تک جاری رکھنا پڑے اور یہ ایک بڑا چیلنج ہو گا اور ہمارے پاس اسے چین کے اوپر سے گزارنے میں اگلے دو ماہ ہوں گے اور اس کے لیے ہمیں تیاری کرنا ہو گی۔‘
شمسی توانائی سے چلنے والے جہاز کے منصوبے نے پہلے ہی متعدد ریکارڈ بنا رکھے ہیں، جس میں 2013 میں امریکہ کو عبور کرنا شامل تھا تاہم دنیا کے گرد چکر لگانا ایک بالکل مختلف مہم ہے۔
اس مقصد کے لیے ’سولر امپلس ون‘ کے مقابلے میں ایک بڑا جہاز ’سولر امپلس ٹو‘ تیار کیا گیا ہے۔
اس نئے شمسی جہاز کے پروں کی لمبائی 72 میٹر ہے جو جمبو جیٹ کے پروں سے بھی بڑے ہیں، لیکن اس جہاز کا وزن صرف 2.3 ٹن ہے۔ اس کا کم وزن مشن کی کامیابی کے لحاظ سے اہم ہو گا۔
شمسی توانائی حاصل کرنے کے لیے اس کے پروں پر 17 ہزار سولر سیلز نصب ہیں اور توانائی کو جمع کرنے کے لیے لیتھیئم بیٹریاں بھی نصب ہوں گی جس کی مدد سے جہاز رات کو بھی پرواز کر سکے گا۔
بحرالکاہل اور بحر اوقیانوس کو عبور کرنے کے لیے رات کے وقت پرواز انتہائی اہم ہو گی کیونکہ اس کی اوسط رفتار 72 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔
جہاز میں پائلٹ کے کاک پٹ کا سائز بھی بہت کم ہے۔ صرف 3.8 مکعب میٹر کاک پٹ کی وجہ سے پائلٹ کو جسمانی مشکلات کا سامنا بھی ہو گا۔
پرواز کے دوران پائلٹ کو وقفوں سے صرف 20 منٹ سونے کی اجازت ہو گی۔

No comments:

Post a Comment